ایسے پاکیزہ خیالات کے حامل علماء کرام آج بھی موجود ہیں جو ہندوانہ رسومات والی شادیوں سے متنفر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ حضرات صرف منبرِ رسول ﷺ سے شادی بیاہ کی بیجا رسومات کی بیخ کنی پر لفظی قدغن نہیں لگاتے، بلکہ عملی طور پر نمونہ پیش کرتے ہوئے سنت اور شریعت کے سیدھے راستے کی طرف چلنے کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ان کے اقوال و اعمال، افعال و کردار سے عشقِ رسول ﷺ کی روح پرور خوشبو صاف اور واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ آج کے اس پُرفتن دور میں، جب بیٹی کی شادی کرنا سب سے مشکل کام بن گیا ہو اور ہر شخص اپنی بہن یا بیٹی کی منگنی اور شادی کے وقت چار پانچ لاکھ روپے خرچ کرنے پر مجبور ہو گیا ہو، تو ایسے حالات میں ہمارے کسی عالمِ دین کا اتنی خطیر رقم کو اس لیے ٹھوکر مار دینا کہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی سادگی والی نکاح کی سنت کو زندہ کرنا ہے اور عوام کے سامنے عملی نمونہ پیش کرنا ہے، غور کریں کہ ایسی چنندہ شخصیت کے افکار و خیالات کتنے اعلیٰ و ارفع ہوں گے، ان کے دل میں اپنی قوم سے محبت کتنی زیادہ ہوگی۔ کہ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی شادی کی وبائی خرافات کو دیکھ کر ماہیِ بے آب کی طرح تڑپتے ہوں گے۔ ان کی حسنِ سیرت، فہم و فراست کا اندازہ تو لگائیے!! یہ کس قدر گہرائی سے سوچتے اور پھر اس پر عمل کرکے دکھاتے ہیں کہ ہمارے سماج میں شادی کے موقع پر جو ہندوانہ رسومات در آئی ہیں، ان کا قلع قمع کرنے میں ہمیں اپنی ذات سے پہل کرنی چاہیے۔ واقعی یہ کام آسان نہیں ہے، لیکن جسے اللہ توفیق دے دیں، اس کے لیے مشکل بھی نہیں ہے۔ تو دوستو!! آئیے، آج میں آپ حضرات کے سامنے ایک ایسے عالمِ دین کی شادی کی حقیقی داستان بیان کرنے جا رہا ہوں، جنہوں نے اپنے عمل سے سادگی والی نکاح کرکے دکھایا ہے۔ مئی سن 2025 کی بات ہے۔ راقم الحروف کو اپنی بیٹی کے لیے رشتے کی تلاش تھی۔ ہمارے خاندان میں علماء اور حفاظ کو فوقیت دی جاتی ہے، نہیں تو کم از کم وضع قطع میں ہی ان کے مشابہ ہوں۔ بہرحال، میرے فرزندِ ارجمند محمد سعد سلمہ نے کہا کہ مولانا ریحان احمد صاحب قاسمی کے بارے میں کیا رائے ہے؟؟ مولانا کے تعلق سے مجھے پہلے سے ہی معلوم تھا، کیونکہ وہ ہمارے استادِ محترم قاری عبدالرب صاحب کے شاگرد ہیں۔ اس وجہ سے وہ ابنائے قدیم کی مجلس میں شرکت بھی کر چکے تھے اور دو تین ماہ ہمارے مدرسے کے استاد بھی رہ چکے تھے۔ اس لیے ان کے اطوار و عادات، اخلاق و کردار، گفتار و رفتار، رہن سہن، نشست و برخاست، معاملات و معمولات اور زندگی کے شب و روز سے یہ حقیر بندہ اچھی طرح واقف تھا۔ صوفیانہ خانقاہی مزاج، دعوت و تبلیغ سے محبت، اساتذہ کا ادب و احترام، منبر کی زینت بنیں تو شیریں و پُرتاثیر بیان، امامت کے منصب پر فائز ہوں تو خوش الحانی سے قرآنِ پاک کی تلاوت، اور اجتماعی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں تو سب کی آنکھیں نم ہو جائیں۔ ایک حافظِ قرآن اور عالمِ دین میں جو صفاتِ حسنہ ہونی چاہئیں، وہ اللہ پاک نے مولانا ریحان احمد صاحب کو عطا فرمائی ہیں۔ یہی دینی و علمی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے اس حقیر بندے کے دل سے آواز نکلی کہ یہ رشتہ مناسب ہے۔ اب فکر ہوئی کہ بات کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔ چنانچہ قاری عبدالرب صاحب کو بیچ میں لا کر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا۔ مولانا کے والدِ محترم بھی نیک سیرت، دین دار، خوددار، بااخلاق، سنجیدہ مزاج، باوقار، چہرے پر سنت سجائے ہوئے، اللہ والوں کا پوشاک زیبِ تن کیے ہوئے اور درویش صفت شخصیت کے مالک ہیں۔ ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ قاری صاحب آئے ہوئے ہیں تو ہماری طرف سے پکا سمجھیں۔ یہاں پر میں نے کہا کہ نہیں، لڑکی کو ایک بار آپ حضرات آ کر دیکھ لیں۔ بہرحال تاریخ متعین ہوئی، لیکن ان کی ایک شرط تھی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہ کریں۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ ہم نے اپنے چچا جان، مولانا محمد نسیم صاحب قاسمی دامت برکاتہم، امام و استاد دارالعلوم قاسمیہ، جو ممبئی میں میرے سب سے بڑے خیر خواہ ہیں اور جنہیں میں والدِ گرامی کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، سب سے پہلے انہی سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت بہتر ہے۔ ادھر مولانا ریحان صاحب نے اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب نقشبندی دامت برکاتہم سے مشورہ کیا۔ حضرت سے ہماری ابھی تک کوئی شناسائی نہیں تھی، لیکن اس وقت حضرت نے ان سے فرمایا: بستی کے لوگ اچھے ہوتے ہیں، آپ رشتہ کر لیں۔ جس طرح سے حضرت پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، اتباعِ سنت میں سرشار دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح سے اللہ پاک نے آپ کو وسیع تر علم و عمل، عقل و دانش، فہم و فراست، حکمت و دانائی، الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانے اور مشورے کی گہرائی تک پہنچ کر تسلی بخش نصیحت کرنے کا بے مثال جوہر عطا فرمایا ہے۔ اللہ پاک آپ کی عمر دراز کرے۔ بہرحال، دونوں طرف کے رائے و مشورے سے یہی بات سامنے آئی کہ رشتہ مناسب رہے گا۔ بات یہاں تک پہنچ گئی، لیکن میں نے اب تک مولانا کا گھر نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی دیکھنے کی کوئی ضرورت محسوس ہوئی، کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ ایک عالمِ دین کے بیوی بچے، الحمدللہ، سکون کی زندگی گزارتے ہیں۔ ابھی تک لڑکی کو دیکھنے کا عمل باقی تھا۔ چنانچہ متعین تاریخ پر مولانا کے والدین آئے اور ان کی والدہ نے میری بیٹی کے ہاتھ میں روپیہ دے دیا۔ اس کا مطلب ہمارے یہاں یہ نکلتا ہے کہ رشتہ پسند آ گیا ہے۔ ہم لوگوں نے بھی لگے ہاتھوں شیرینی وغیرہ دے دی، لیکن اس میں خرچہ نہ کے برابر ہوا۔ اس کے بعد 23 اپریل سن 2025 کو حضرت کی خانقاہ میں نکاح کی پُرمسرت تقریب منعقد ہوئی۔ حضرت نے ہی نکاح پڑھایا۔ وہیں حضرت کی طرف سے مہمانوں کے لیے چائے ناشتہ کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ میری بچی کو اتنا بہترین رشتہ ملا اور اتنی سادگی کے ساتھ شادی ہو گئی۔ اس میں بہت سے خیر خواہوں کی دعائیں شامل تھیں، لیکن حضرت کی دعا اور محبت نے ہمارے دل پر گہرا اثر چھوڑا ہے، جو ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا۔ نکاح کے بعد دوسرے دن شادی کی تاریخ بھی طے تھی۔ مولانا کے والدِ محترم نے کہا کہ دس افراد آئیں گے اور لڑکی کی رخصتی کرا کے لے جائیں گے۔ کچھ حضرات نے مشورہ دیا کہ کوئی شادی کا ہال بک کر لیں۔ میں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے اوپر بوجھ نہیں ڈالا ہے تو میں کیوں پریشانی اٹھاؤں؟؟ یہیں مدرسے پر چند مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام کریں گے۔ چنانچہ چار پانچ اپنے خاص رشتہ داروں کو مدعو کر لیا اور مدرسے کے بچوں کے لیے بھی کھانے کا انتظام کر دیا۔ بہت سہولت کے ساتھ مہمان نوازی ہو گئی۔ ہمارے بہت ہی محترم جناب حضرت مولانا محمد سلمان خوشتر حلیمی حبیبی صاحب دامت برکاتہم کی طرف سے جو مہمان آئے ہوئے تھے، ان کے لیے حضرت نے بڑی محبت سے ہدیہ بھیجا تھا۔ ایسے خوشی کے موقع پر اپنوں کی محبت جو ہوتی ہے، وہ ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ اسی کے ساتھ میری بیٹی کے لیے ایک دیدہ زیب اور دل آویز قرآنِ پاک مع بکس بھیجنے پر حضرت کا شکر گزار ہوں۔ اللہ پاک انہیں عمرِ خضر عطا فرمائے۔ دوستو! میں نے بارات اور جہیز کی مخالفت میں بہت لکھا، لیکن جب اپنی بیٹی کا مسئلہ سامنے آیا تو میں نے محسوس کیا کہ ایک باپ کے لیے اپنی بیٹی کو خالی ہاتھ بھیجنا کتنا مشکل کام ہے۔ ہر باپ کا دل چاہتا ہے کہ اپنی بیٹی کو ہدیہ تحفہ دے، لیکن مولانا نے کہا کہ اگر میں نے جہیز لیا تو منبر سے کس طرح اس کی مخالفت کروں گا؟ یقیناً یہ میرے لیے بہت مشکل وقت تھا۔ بہرحال، مولانا سے چھپا کر کچھ سامان ان کے گھر پہنچا دیا، حالانکہ مولانا کو یہ بات گراں گزری، جس کا انہوں نے اپنے والدِ محترم سے اظہار بھی کیا۔ یہاں پر اپنے تجربات کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے معاشرے سے بارات کی منحوس وبائی بیماری کو جڑ سے ختم کرنا چاہیے، اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن جہیز کے معاملے میں تحفہ دینے کی کچھ گنجائش ہونی چاہیے۔ البتہ اس معاملے میں جو حضرات افراط و تفریط کرتے ہیں، وہی ہمارے سماج کو دیمک کی طرح سے اندر ہی اندر نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد یہی ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی نکاح کو سادگی کے ساتھ کریں، اسے آسان بنائیں اور دین داری کو ترجیح دیں۔ جب تک ہمارے معاشرے میں سادگی والی نکاح کی سنت زندہ نہیں ہوگی، اس وقت تک سب لوگ پریشان رہیں گے اور ہماری قوم کی بیٹیوں کا مستقبل تاریک ہوتا جائے گا۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہم تمام مسلمانوں کو شادی بیاہ میں جو بھی خرافات ہو رہی ہیں، انہیں ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور سادگی والی نکاح کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین محمد شمیم دارالعلوم حسینیہ، بوریولی، ممبئی