"کیا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی آپشن ہے صرف جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم" محمد خالد داروگر سانتاکروز ممبئی
Dabang Sahafat••16 ویوز•3 منٹ پڑھیں
"کیا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی آپشن ہے صرف جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم"
محمد خالد داروگر سانتاکروز ممبئی
ماہ ربیع الاوّل وہ مبارک مہینہ ہے جس میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی اور یہی وہ مہینہ بھی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے ۔ جس طرح دوسری قومیں اپنے مذہب کی شخصیات کا جشن پیدائش بڑے دھوم دھام سے منانے کا اہتمام کرتی ہیں اسی طرز پر خاص طور پر برصغیر میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی چل پڑی ہے کیونکہ ربیع الاوّل کا مہینہ شروع ہوتے ہی جشن عید میلادالنبی کے جلوس نکالنے اور گلی محلے میں جشن چراغاں کا اہتمام کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور گلی محلے سجائے جاتے ہیں حالانکہ ایک دوسرے کے تعلق سے دل مسلک کی بنیاد دن بدن تنگ ہوتے جارہے ہیں ۔ اور اس طرح فضول خرچیوں اور بےجا اصراف کا لامنتاہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کہیں جاکر رکنے کا نام نہیں لیتا ہے ۔ بڑا افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس میں علمائے کرام پیش پیش رہتے ہیں حالانکہ احادیث میں بتایا گیا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں انہیں تو چاہیے تھا کہ وہ ربیع الاوّل کا مہینہ شروع ہوتے ہی مسلمانوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے کہ وہ سیرتِ سرورِ عالم کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور پھر اپنی عملی زندگی میں اس پر عمل کرتے ہوئے دنیا کو یہ بتائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار کیسا ہوتا ہے وہ اخلاق کا پیکر ہوتا ہے اور اس کو دیکھ کر لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو جاننے کے کوشش کرتے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے ارشاد فرمایا "ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔"اور اس جہان میں صرف مسلمان ہی نہیں بستے اور رہتے ہیں بلکہ دوسرے مذاھب کے لوگ بھی بستے اور رہتے ہیں ان کو کون بتائے گا کہ یہ نبی جس طرح مسلمانوں کے لیے رحمت بن کر آیا ہے اسی طرح تمہارے لئے بھی رحمت بن کر آیا ہے اس اہم کرنے کے کام کو ہم سرے بھول ہی گئے اور جشن میلاد النبی اور جشن چراغاں کا اہتمام کرنے میں مصروف عمل ہوگئے ۔ ہمارے سامنے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عشقِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ایک ہی آپشن رہ گیا ہے اور وہ صرف جشن میلاد النبی جلوس نکالا جائے اور جشن چراغاں کیا جائے۔