جمعرات، 27 اگست، 2026
Englishहिन्दीTeluguUrdu
دبنگ صحافت
دبنگ صحافت
ہومای پیپرویڈیوزحیدرآبادتلنگانہقومیبین الاقوامیصحتتعلیمٹیکنالوجیکھیلمضامیناداریہجرائم اور حادثاتوائرل خبریں
اہمحیدرآبادتلنگانہقومیبین الاقوامیصحتتعلیمٹیکنالوجیکھیلمضامیناداریہجرائم اور حادثاتوائرل خبریں

دبنگ صحافت

سچ کی آواز، بے باک انداز۔

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • English
  • हिन्दी (Hindi)
  • తెలుగు (Telugu)
  • اردو (Urdu)

ہمیں فالو کریں

Email: editordabang@gmail.com

Phone: 9948740786

© 2026 Dabang Sahafat. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار!
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار!

Dabang Sahafat•27 اگست، 2026 کو 01:24 PM•3 ویوز•12 منٹ پڑھیں

ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار!

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

آج ملک میں ہرطرف بے چینی اور مایوسی ہے،کسی بھی ملک کی اصل طاقت ایک مضبوط،مستحکم اورخودکفیل معیشت ہوتی ہے۔معاشی استحکام کے ذریعے ہی قومی ترقی،سیاسی خودمختاری،سماجی خوش حالی اور عالمی وقار کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔جس قوم کی معیشت مضبوط ہوتی ہے وہ اپنے فیصلے آزادی اورخود اعتمادی کے ساتھ کرسکتی ہے،ترقی یافتہ ممالک مسلسل نئی ٹیکنالوجی،صنعت، تجارت،تحقیق اور انسانی وسائل پرسرمایہ کاری کررہے ہیں۔دوسری جانب ترقی پذیرممالک کے سامنے بے روزگاری،مہنگائی،غربت،قرضوں اور آمدنی میں عدم مساوات جیسے سنگین مسائل موجود ہیں۔ان حالات میں صرف معاشی ترقی کے بڑے بڑے دعوے کافی نہیں،بلکہ ضروری ہے کہ ترقی کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔ مضبوط معیشت کا پہلاستون،پیداواری کی صلاحیت ہے۔جو ملک زیادہ پیدا کرتا ہے،بہترمصنوعات تیار کرتا ہے اور عالمی منڈی میں اپنی جگہ بناتا ہے وہی معاشی طورپرزیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ایک ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہوتی ہے،لیکن اگریہی نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم رہیں تو یہ طاقت قومی مسئلہ بن سکتی ہے۔اس لیے ایسی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے جوصرف ڈگریاں تقسیم کرنے کے بجائے نوجوانوں کوہنر،ٹیکنالوجی،تحقیق اورعملی میدان کے لیے تیار کرے۔اسی طرح مہنگائی عام شہری کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔جب ضروری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں اور آمدنی اس رفتار سے نہ بڑھے تومتوسط اورغریب طبقہ شدیدمشکلات کا شکارہوجاتا ہے۔مضبوط معیشت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ملکی خزانے کے اعداد و شمار بہتر دکھائی دیں،بلکہ اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ وہاں کے ایک عام آدمی کومناسب روزگار،بہترتعلیم،علاج اورباعزت زندگی کے مواقع میسرہوں،بدعنوانی،وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اورچند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز معاشی ترقی کے راستے کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔اگرترقی کا فائدہ صرف مخصوص طبقوں تک محدود رہے اور عام شہری مہنگائی وبے روزگاری کے بوجھ تلے دبتا رہے توایسی ترقی کو معاشی کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔حقیقی ترقی وہی ہے جس میں معاشرے کے کمزور طبقات بھی شریک ہوں۔اصل معیشت یہ ہے کہ گھر کا چولہا کتنی آسانی سے جل رہا ہے،بچوں کی تعلیم کا خرچ کہاں سے پورا ہوگا؟علاج کے لیے کتنی رقم درکار ہے؟بجلی،ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بعد ماہانہ آمدنی میں کیا باقی بچتا ہے؟یہی وہ مقام ہے جہاں کاغذی معیشت اور زمینی معیشت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔بھارت میں ان دنوں ایک طرف معاشی ترقی کے دعوے ہیں اوردوسری طرف مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید کو مسلسل کمزور کررہی ہے۔آمدنی کی رفتار اگر اخراجات کی رفتار سے پیچھے رہ جائے تو ترقی کےتمام دعوے عام شہری کے لیے بے معنی ہوجاتے ہیں۔مزدور، کسان، متوسط طبقہ اورچھوٹے چھوٹے تاجرین وہ طبقے ہیں جومعیشت کے اصل بوجھ کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس بڑھتی ہوئی قیمتوں کو برداشت کرنے کے لیے نہ بڑے ذخائر ہوتے ہیں اور نہ ہی آمدنی کے متعدد ذرائع،ہمارے معاشی نظام کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ دولت کی گردش محدود ہوتی جارہی ہے۔سرمایہ چندہاتھوں میں سمٹتا جارہا ہے جبکہ ایک بڑی آبادی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرتی ہے،دولت کی منصفانہ تقسیم،معاشی ترقی کا اصل مقصدہونا چاہیے،بڑھتی بے روزگاری معیشت کا وہ زخم ہے جسے محض اعداد و شمار سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگرمناسب روزگار سے محروم رہے تو اس کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان اور بالآخر پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے،بے روزگاری معاشی مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی بے چینی،مایوسی اورمستقبل کے عدمِ تحفظ کا بھی سبب بنتی ہے،معیشت کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم چھوٹے کاروبار، کسان،مزدور،نوجوان اورمتوسط طبقے کی حالت کا جائزہ لیں۔ایک صحت مندمعیشت وہی ہوتی ہے جس میں ترقی کا فائدہ معاشرے کے نچلے طبقوں تک پہنچے،روزگار کے مواقع پیدا ہوں،چھوٹے کاروبارمحفوظ ہوں اوربنیادی ضروریات عام شہری کی پہنچ سے باہرنہ ہوں۔
جمہوری نظام میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت سے سوال کرے کہ اگرمعیشت ترقی کررہی ہے توہماری زندگی کیوں مشکل ہورہی ہے؟ اگر ملک آگے بڑھ رہا ہے تو نوجوانوں کے مستقبل میں بے یقینی کیوں ہے؟ نوجوان طبقہ مایوسی کا شکارکیوں ہے؟ اگر سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے تو چھوٹے کاروبار کیوں دباؤ میں ہیں؟ اور اگرترقی کے ثمرات موجود ہیں تو عام آدمی پریشان کیوں ہے ؟اس ترقی کے ثمرات ان تک کب پہنچیں گے؟ معیشت کی اصل تصویر ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں تیار ہونے والی رپورٹوں سے زیادہ بازاروں، کھیتوں، کارخانوں اورمتوسط طبقے کے گھروں میں نظرآتی ہے۔حکومتوں اور پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کا معیارِ زندگی ہے،جب تک عام آدمی کو مہنگائی سے حقیقی راحت،نوجوانوں کوباعزت روزگار، کسانوں کومناسب قیمت،مزدوروں کو محفوظ اجرت اورمتوسط طبقے کو معاشی استحکام حاصل نہیں ہوتا،اس وقت تک ترقی کے بلند بانگ دعوؤں اورمعیشت کی زمینی حقیقت کے درمیان ایک بڑا خلا باقی رہے گا۔کیونکہ معیشت کی اصل حقیقت یہ نہیں کہ ملک کے خزانے میں کتنا اضافہ ہوا؟بلکہ یہ دیکھنا اہم ہے کہ عام آدمی کے گھر میں زندگی کتنی آسان ہوئی؟شکر سمیت روزمرہ کی قیمتوں میں ماہ اگست کےدوران اچانک زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔صرف 17 دن میں شکر کی قیمت تقریباً 19 روپے فی کلو تک بڑھ گئے۔ تھوک بازار میں قیمت 44 روپے سے بڑھ کرتقریباً 65 روپے اور کئی جگہ خوردہ قیمت 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے،تاجروں کے مطابق کم اسٹاک،تہواروں سے پہلے بڑھتی مانگ اور بازار میں ذخیرہ کیے جانے کو قیمت بڑھنے کی بڑی وجوہات میں شمار کیا جارہا ہے۔ اتر پردیش کے کچھ بازاروں میں تاجروں نے ایجنٹوں کی جانب سے مسلسل زیادہ نرخ پرشکرفروخت کیے جانے کی بھی بات کہی ہے،قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گھریلو بجٹ پرنہیں پڑرہا بلکہ چائے،مٹھائی اوردیگر کھانے پینے کی کئی اشیا بھی مہنگی ہونے لگی ہے۔فی الحال قیمتوں میں تیزی برقرار ہے،عوام مہنگائی اوربے روزگاری سے پریشان ہیں لیکن وزیروں کے سرکاری بنگلوں کی مرمت پر 10 سال میں خرچ 3 گنا بڑھ گیا،ایک سال میں 92 کروڑ روپے خرچ ہوئے،نئی دہلی کے لُٹینس زون میں مرکزی وزیروں کے سرکاری بنگلوں کی مرمت،دیکھ بھال،تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن پرہونے والے اخراجات میں گزشتہ برسوں کے دوران بڑا اضافہ ہوا ہے،آر ٹی آئی سے حاصل معلومات کے مطابق 2014-15 میں ان کاموں پر 27.47 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے، جبکہ 2025-26 میں یہ رقم بڑھ کر 92.35 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔یعنی سالانہ خرچ تین گنا سے بھی زیادہ ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق 2014-15 سے 2025-26 تک 12 برس میں مجموعی طور پر 547.68 کروڑ روپے مرکزی وزیروں کی سرکاری رہائش گاہوں کی مرمت اور دیکھ بھال پرخرچ کیے گئے،یہ کام مرکزی تعمیرات عامہ محکمہ (CPWD) کے ذریعے کرائے جاتے ہیں،اعداد و شمار کے مطابق 2019-20 میں خرچ 26.37 کروڑ روپے تھا، جو 2020-21 میں بڑھ کر 53.87 کروڑ، 2022-23 میں 73.86 کروڑ اور 2025-26 میں 92.35 کروڑ روپے تک پہنچ گیا،حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر بنگلے 80 سے 100 سال پرانے ہیں، جہاں سیلن،دیمک،پرانے بجلی کے نظام، پائپ لائن اور دیگر مرمت کے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔اسی وجہ سے دیکھ بھال کا خرچ بڑھنے کی ایک وجہ عمارتوں کی پرانی ساخت اور بڑھتی ہوئی تعمیراتی لاگت کو بتایا گیا ہے،لیکن اس انکشاف کے بعدسیاسی حلقوں میں سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ جب عام لوگ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سے پریشان ہیں تو وزیروں کے سرکاری بنگلوں کی مرمت اور تزئین و آرائش پر ہرسال کروڑوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت اور اس کی نگرانی کا نظام کیا ہے؟ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے کو لے کر حکومت پرشدیدتنقید کی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب حکمران بی جے پی ملک میں سیاسی طورپر انتہائی مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے اورمسلسل انتخابی فتوحات نے وزیراعظم مودی کے عوامی امیج کو مزید مستحکم کیا ہے،وہیں ملک کی معیشت کے حوالے سے ایک بالکل مختلف اورتشویش ناک تصویرسامنے آرہی ہے،ہندوستان کے تین ایسے نامورمعاشی اورسیاسی ماہرین،جن کا تعلق نہ تو کانگریس سمیت کسی سیاسی پارٹی سے ہے اور نہ ہی وہ بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ ہیں،جنہوں نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور مستقبل کی سمت کے بارے میں غیرمعمولی اورشدید انتباہ جاری کیے ہیں،ان تینوں ماہرین کے مشترکہ بیانات نے اس وقت پورے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑدی ہے،جس کا مرکزی نقطہ نظر یہ ہے کہ بی جے پی انتخابات تو جیت رہی ہے لیکن ملک معیشت کے محاذ پرپچھڑتا جارہا ہے،ملک کی معیشت پر یہ سنگین سوالات اٹھانے والی شخصیات عالمی سطح پر انتہائی معتبر مانی جاتی ہیں اور ماضی میں سرکاری پالیسیوں اور اہم اداروں کے ساتھ قریبی طورپرمنسلک رہی ہیں،ان میں پہلا نام اروند سبرا منیم کا ہے جو 2014 سے 2018 تک مودی حکومت کے چیف اکنامک ایڈوائزر رہ چکے ہیں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت پیٹرسن انسٹیٹیوٹ جیسے عالمی اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں،دوسری اہم شخصیت سرجیت بھلا کی ہے جو مارکیٹ اصلاحات کے کٹرحامی مانے جاتے ہیں اورجنہیں خودمودی حکومت نے(آئی ایم ایف) میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کر کے بھیجا تھا، تیسری اہم شخصیت اورماہرمعاشیات سنجے بارو ہیں جوسابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر اور مشہور کتاب 'دی ایکس ڈنٹل پرائم منسٹر' کے مصنف ہیں،جن کی تحریروں کا حوالہ ماضی میں بی جے پی کے حامی اکثر منموہن سنگھ اور نریندرمودی کی قیادت کا موازنہ کرنے کے لیے دیتے رہے ہیں،اب یہی تینوں معتبر آواز،ہندوستانی معیشت کے اندرونی نظام پرسنگین سوالات اٹھارہے ہیں اور مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کررہے ہیں،کیا یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ ملک کی معیشت کو بحران سے نکالنے کےلئے سنجیدگی سے غوروفکرکیاجائے؟ ادھرملک پرقرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتاجارہاہے،بھارت کے غیرملکی قرض میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ریزرو بینک آف انڈیاکے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک ملک کا مجموعی بیرونی قرض 762.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 26.3 ارب ڈالرزیادہ ہے۔موجودہ شرحِ مبادلہ کے حساب سےمیڈیا رپورٹس میں اسے تقریباً 72 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ بتایا جارہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا غیرملکی قرض اور جی ڈی پی کا تناسب بڑھ کر 20.8 فیصد ہوگیا ہے،جبکہ ایک سال پہلے یہ 19.8 فیصد تھا۔یعنی ملک کی معیشت کےحجم کے مقابلے بیرونی قرض کا بوجھ بڑھا ہے،رپورٹ میں ایک اوراہم بات سامنے آئی ہے کہ ایک سال یا اس سے کم مدت میں ادا کیے جانے والے قلیل مدتی غیرملکی قرض کا حصہ بڑھ کر 19.6 فیصد ہوگیا،جو گزشتہ سال 18.3 فیصد تھا۔ غیرملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے مقابلے قلیل مدتی قرض کا تناسب بھی 20.1 فیصد سے بڑھ کر 21.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ایک دوسری رپورٹ کے مطابق پچھلے 12سال میں ملک بھرکے بینکوں نے مجموعی طور پر 9 لاکھ 95 ہزار کروڑ کےقرضوں کو معاف کیا ہے اور اب شہریوں کو قرض دینے سے انکار کردیاہے،بینکوں نے کہا ہے کہ اب ہمارے لئے قرض دینا ممکن نہیں ہے،کارپوریٹ کمپنیوں اور گھرانوں کے قرض معافی کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے پارلیمنٹ کو اس بات سے واقف کروایا کہ پچھلے 12 سال کے دوران مجموعی طور پر 9 لاکھ 95 ہزار کروڑ کا قرض معاف کیا گیا ہے،سال 2018/19 کے دوران بینکوں نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 48 ہزار753 کروڑ کے قرض معاف کیے ہیں جبکہ سب سے کم قرض مالی سال 2025/26 کے دوران معاف کیے گئے جو مجموعی طور پر 20 ہزار485 کروڑ کے ہیں،مرکزی مملکتی وزیر فائنانس مسٹرپنکج چودھری نے اپنے تحریری جواب میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا کا ڈیٹا پیش کیا اور کہا کہ بھاری صنعتی اداروں اورخدمات کو مالی سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 63 لاکھ 19 ہزار 57 کروڑ کے قرض دیے گئے جو کہ سال 2026 کے دوران بڑھ کر69 لاکھ21ہز734 کروڑ تک پہنچ چکے ہیں،انہوں نے ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے فراہم کی گئی تمام تفصیلات اپنے جواب میں پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے اقدامات اور ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کی مالی حالت میں آنے والی بہتری کی تفصیلات پیش کی اور دعوی کیا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور جی ڈی پی میں بہتری ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔
اس حقیقت کوسمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرضوں کےسہارے،بڑھتی ہوئی مہنگائی اوربے روزگاری کے ساتھ کوئی قوم طویل عرصے تک مضبوط نہیں رہ سکتی۔مضبوط قوم کے لیے مضبوط معیشت ضروری ہے اورمضبوط معیشت کے لیے دیانت دار قیادت،واضح پالیسی،محنتی عوام،جدید تعلیم اور منصفانہ نظام ناگزیر ہیں،وقت کا تقاضا ہے کہ ہم معاشی مسائل کومحض سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے قومی ترجیح قرار دیں۔ کیونکہ جب معیشت مضبوط ہوگی،تب ہی ملک مضبوط ہوگا،عوام خوش حال ہوں گے اورقوم دنیا کے سامنے زیادہ وقار اورخود اعتمادی کے ساتھ کھڑی ہوسکے گی،مضبوط معیشت ہی مضبوط،خود کفیل اور باوقارقوم کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ملک کی اصل طاقت اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ عام شہری کی زندگی کتنی آسان،محفوظ اور باوقار ہے؟بازاروں میں رونق ہومگرعوام کی جیب خالی ہو،معیشت کی ترقی کے بڑے دعوے ہوں مگرنوجوان روزگار کے لیے دربدرپھررہے ہوں،اگرسرمایہ دارمزیدمضبوط اورغریب مزید کمزور ہوتا جارہا ہوتو پھر سوال یہ ہے کہ آخر یہ ترقی کس کے لیے ہے؟ اور ایسی ترقی کا کیا مطلب ہے؟ ملک کی معیشت ان دنوں سنگین بحران کا شکار ہے،لوگوں کا کاروبار برباد ہوگیا،کمرٹوٹ گئی پھراس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟یہ کون سوچے گا؟
*(مضمون نگارمعروف صحافی،کالم نویس اورسیاسی تجزیہ نگارہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com
شیئر کریں:

More from مضامین

 "کیا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی آپشن ہے صرف جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم"  محمد خالد داروگر سانتاکروز ممبئی
مضامین

"کیا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی آپشن ہے صرف جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم" محمد خالد داروگر سانتاکروز ممبئی

25 اگست، 2026