مذہب اسلام نے تعلیم کا جامع تصور دیا ہے نوجوانان اہل حدیث موضع شاہ پور مولانی کندھرا پور اعظم گڈھ کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس سے شیخ عبد الغفار سلفی کا خطاب
Dabang Sahafat••24 ویوز•6 منٹ پڑھیں
دبنگ نیوز بیورو
مذہب اسلام نے تعلیم کا جامع تصور دیا ہے
نوجوانان اہل حدیث موضع شاہ پور مولانی کندھرا پور اعظم گڈھ کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس سے شیخ عبد الغفار سلفی کا خطاب
نوجوانان اہل حدیث موضع شاہ پور مولانی کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان دینی و اصلاحی اجلاسِ عام جامع مسجد اہلِ حدیث شاہ پور مولانی، اعظم گڑھ میں ڈاکٹر فواز رحمانی مبارکپوری استاذ مدرسہ دار التعلیم کھیدو پورہ مئو کی صدارت میں منعقد ہوا، پروگرام کا آغاز حافظ ازلان شاہ پور مولانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا بعدہ ناظم اجلاس شیخ عبداللہ احسان اللہ فیضی سکریٹری جمعیت السلام ٹرسٹ مقاصد اجلاس پر نہایت عمدہ اور پُراثر روشنی ڈالی اور بتایا کہ صدر اجلاس ڈاکٹر فواز رحمانی مبارکپوری ہندوستان کے معروف علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں آپ علامہ شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کے پوتے دکتور عبد العزیز مکی مبارکپوری امیر ضلعی جمعیت اہل حدیث اعظم گڈھ کے خلف الرشید ہیں اجلاس کے پہلے خطیب ملک کے معروف مقرر شیخ ڈاکٹر عبدالغفار سلفی نے علم کی اہمیت، اس کی فضیلت اور تعلیم کے بارے میں اسلامی تصور پر نہایت جامع گفتگو کی۔ انہوں نے قرآن مجید کی پہلی وحی ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام کی دعوت کا آغاز ہی علم اور پڑھنے کے حکم سے ہوا۔ علم محض معلومات کا نام نہیں بلکہ صحیح علم انسان کو اللہ کی معرفت، اپنے مقصدِ زندگی کی پہچان اور عملِ صالح کی طرف لے جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام صرف دینی علوم کے حصول کا حکم دے کر عصری علوم سے منع نہیں کرتا۔ سائنس، جغرافیہ، تاریخ، طب، ریاضی اور دیگر مفید علوم بھی اگر صحیح مقصد اور شرعی حدود کے ساتھ حاصل کیے جائیں تو معاشرے کی ضرورت ہیں۔ خصوصاً مسلم خواتین کی تعلیم کے حوالے سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی علمی شخصیت کو مثال بنایا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی طویل عرصے تک امت کی علمی رہنمائی فرمائی اور بڑے بڑے صحابہ و تابعین آپ سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔ تفسیر، حدیث، فقہ، عربی ادب اور دیگر متعدد علوم میں آپ کی گہری بصیرت تھی شیخ عبدالغفار سلفی نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم معاشرے کو اپنی بیٹیوں کی تعلیم سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری خواہش ہونی چاہیے کہ ہماری بیٹیاں ڈاکٹر بنیں تاکہ مسلمان خواتین کا علاج مسلمان خواتین کے ہاتھوں ہو، وہ معلمہ بنیں تاکہ ہماری بچیوں کو دینی و اخلاقی ماحول میں تعلیم دینے والی مسلمان خواتین میسر ہوں اور وہ مختلف مفید شعبوں میں آگے بڑھیں؛ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم کے نام پر ان کا دین، ایمان، حیا، عفت اور اسلامی شناخت مجروح نہ ہو۔ تعلیم ایسی ہو جو دنیا کے ساتھ آخرت بھی سنوارے اور صلاحیت کے ساتھ صالحیت بھی پیدا کرے اس موقع پر اہلِ علم و فضل کی گرانقدر خدمات پر شال پوشی کی گئی جس میں فضیلۃ الشیخ حافظ محمد شمیم املوی، شیخ عبدالغفار سلفی، شیخ ڈاکٹر فواز عبدالعزیز مبارکپوری، شیخ انعام الرحمن رحمانی، شیخ غفران رحمانی، شیخ عادل فیضی، شیخ بلال سلفی، شیخ عمیر مقتدیٰ مئوی شیخ شاہد جمال ندوی شیخ عارف اثری شیخ اطہر علی شیخ آفتاب عالم اثری شیخ عبداللہ فیضی شامل تھے اسی طرح نیٹ (NET) کوالیفائی کرنے والے طلبہ ارمان مرزا و حافظ محمد مصعب حافظ ازلان حافظ محمد احمد کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اعزازات پیش کیے گئے۔ اس تقریب کا مقصد اہلِ علم، حفاظ اور علمی میدان میں کامیابی حاصل کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ بعد ازاں شیخ شاہد جمال ندوی استاذ جامعہ اثریہ دار الحدیث مئو نے نہایت فکر انگیز خطاب فرمایا۔ انہوں نے گزشتہ اقوام اور اسلامی تاریخ کے مختلف واقعات کے حوالے سے مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی اور بالخصوص فتحِ مکہ کے واقعے کو ایمان، صبر، قربانی اور اتحاد کی عظیم مثال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جن مسلمانوں کو کبھی اپنے وطن سے ہجرت پر مجبور کیا گیا تھا، وہی مسلمان چند سال بعد رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے کعبہ کے گرد موجود بتوں کو قرآن کی آیت ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾ پڑھتے ہوئے اشارہ فرمایا اور باطل کے ان مظاہر کو ختم کردیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی فتوحات کا راز محض ظاہری قوت میں نہیں تھا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں ایمان پیدا کیا، ان کے اخلاق و کردار کو سنوارا، انہیں قربانی کا جذبہ دیا اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم کیا۔ اسی ایمانی قوت کے نتیجے میں اسلام نے مختصر مدت میں وسیع علاقوں تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے احادیثِ نبویہ کی روشنی میں اسلامی مستقبل کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی بشارتوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے امت کو ایک عظیم مستقبل کی امید دلائی تھی۔ لہٰذا آج بھی مسلمانوں کو مایوسی کے بجائے اپنے ایمان، کردار، اتحاد اور دعوتی ذمہ داری کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ آخر میں اجلاس کے صدر شیخ ڈاکٹر فواز عبدالعزیز مبارکپوری نے صدارتی خطاب فرمایا۔ انہوں نے موجودہ دور میں تعلیم کے نام پر مسلم معاشرے میں بڑھتی ہوئی مغربی تہذیبی یلغار کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ اگر نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور دینی شعور سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ نہ کیا گیا تو رفتہ رفتہ مغربی تہذیب کے اثرات ہمارے گھروں اور معاشرتی ماحول کو تبدیل کرسکتے ہیں ایسے میں والدین کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمہ وقت حساس اور بیدار رہیں اجلاس میں قرب و جوار کے علاوہ بنارس اور دیگر علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئےخاص طور سے شارق بھائی شاھد کبیر، الیاس احمد بابو بھائی ماسٹر محمد حمزہ، عبد الکافی، مولانا سلیمان، مولانا عمر عالی انتخاب مرزا عدنا مرزا محمد ہاشم مولانا بلال سلفی سہراب احمد ابو احمد محمد حاکم اشتیاق احمد نوشاد احمد ابو سعد خورشید احمد ساجد خان جہانگیر عالم ضیاء الحق کے علاوہ بنارس و قرب و جوار کے علاقوں سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کیا پورا پروگرام نہایت نظم و ضبط، سنجیدگی اور دینی ماحول میں اختتام ہوا نوجوانان اھل حدیث موضع شاہ پور مولانی نے مدرسہ اسلامیہ مصباح العلوم میں تمام مہمانان گرامی کی ضیافت کی اور شکریہ کے ساتھ الوداع کہا